Abdulghaffar Madni

قرآن وسنت دونوں حق ہیں

1۔ قرآن و سنت دونوں وحی ہیں

قرآن کریم اور سنتِ رسول ﷺ دونوں ہی وحیِ الٰہی ہیں، جس کے دلائل درج ذیل ہیں:

* کلامِ الٰہی: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ (3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (4) (سورۃ النجم)

(ترجمہ: اور وہ (نبی ﷺ) اپنی خواہشِ نفس سے کچھ نہیں بولتے، یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے)۔

* حکمِ الٰہی: قرآن کریم کو “تنزيل من رب العالمين” کہا گیا،

اور نبی ﷺ نے فرمایا:

«أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ» (سنن ابی داؤد: 4604)

(ترجمہ: خبردار! مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز (سنت) بھی دی گئی ہے)۔

* بخاری کی روایت: آپ ﷺ نے فرمایا:

«واللهُ أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ»

(اللہ کی قسم! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب (وحی) کے مطابق فیصلہ کروں گا)۔

یہاں کتاب اللہ سے مراد وحیِ الٰہی ہے جس میں سنت بھی شامل ہے۔ کیونکہ جو فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آدھا قرآن میں موجود ہے اور آدھا حدیث میں یعنی مکمل فیصلہ قرآن میں موجود نہیں۔

2۔ حفاظتِ ذکر (قرآن و سنت کی حفاظت)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ) (الحجر: 9)۔

تحریف کرنے والوں نے قرآن میں تحریف کی کوشش کی جو آج بھی کتابی شکل میں موجود ہے، تو حفاظت کس طرح ہوئی؟ الحمدللہ امت کے حفاظ نے اپنے حافظے سے بھی اس تحریف کی نشاندہی کی اور اپنے پاس موجود مصحفِ قرآن سے بھی۔

بعینہٖ اسی طرح تحریف کرنے والوں نے احادیث میں تحریف کی تو محدثین میدان میں اترے، انہوں نے ایک ایک حدیث کی جانچ پڑتال کی اور ضعیف و من گھڑت احادیث کو صحیح احادیث سے الگ کیا (اپنے سینے میں محفوظ احادیث سے اور اپنے پاس لکھی ہوئی احادیث سے بھی)۔

3۔ من مانی باتوں پر عمل کرنے کے لیے احادیث پر نکتہ چینی کی گئی، کیونکہ زیادہ اعمال کا طریقہ احادیثِ رسول ﷺ میں موجود ہے۔ حدیث کا انکار حقیقت میں قرآن کا انکار ہے، کیونکہ حدیث کے بغیر مکمل قرآن پر عمل کرنا ناممکن ہے۔حدیث کے بغیر درج ذیل امور کا عمل ناممکن ہے:

* نماز کا طریقہ اور رکعات قرآن میں نہیں۔

* زکوٰۃ کا نصاب اور اس کی شرح قرآن میں نہیں۔

* حج و عمرہ کا طریقہ، کعبہ کے طواف کی تعداد اور صفا مروہ کے چکروں کی تعداد قرآن میں نہیں۔

ان مذکورہ چیزوں کا حکم قرآن میں ہے لیکن طریقہ قرآن میں نہیں تو حدیث کے بغیر ان پر عمل کرنا کیسے ممکن ہوگا عمل کے لیے حدیث کو معیار بنانا پڑے گا۔

4۔ کیا حدیث من گھڑت ہے؟ (پیشگوئیِ رسول ﷺ)

نبی کریم ﷺ نے اس فتنے کی خبر پہلے ہی دے دی تھی۔ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ كَمَا حَرَّمَ اللَّهُ» (ترمذی: 2664)

(ترجمہ: قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا شخص اپنے پلنگ پر بیٹھ کر کہے: تم اس قرآن کو لازم پکڑو، اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو حرام ملے اسے حرام جانو۔ خبردار! جو رسول اللہ ﷺ نے حرام کیا ہے وہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ نے حرام کیا ہے)۔

قرآن و سنت دونوں حجت ہیں اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ حدیث کی حجیت کا انکار دراصل پورے دینِ اسلام کا انکار ہے۔

Rate this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *