معزز قارئین! الله تعالی نے تمام انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور سیدنا آدم علیہ السلام کو سب کا باپ بنایا ہے۔ اس لحاظ سے سب کی بنیاد تو ایک ہے لیکن یہ کئی اعتبارات سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں: لہٰذا یہ شکل وصورت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اسی طرح یہ اپنے معاشی حالات میں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اسی طرح یہ ایمان وعمل میں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن یہ اپنے احوال میں ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک بات پر متفق ہیں اور وہ ہے خوشحال زندگی کی تمنا اور آرزو۔ تمام لوگ اس بات کے متمنی ہیں کہ انہیں دنیا میں خوشگوار زندگی نصیب ہو اور یہ سب ایک باوقار اور پرسکون زندگی کے حصول کیلئے دن رات جد وجہد بھی کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون سا راستہ ہے جس پر چل کر ہم سب خوشحال وخوشگوار زندگی تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟
معزز قارئین! ہم یہی سوال ایک دوسرے انداز سے بھی کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ اس دور میں تقریبا ہر انسان پریشان حال نظر آتا ہے۔ کسی کو روزگار کی پریشانی، کسی پر قرضوں کا بوجھ، کسی کو جسمانی بیماریاں، الغرض ہر شخص کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا نظر آتا ہے، تو حقیقی وسائل واسباب کون سے ہیں جنھیں اختیار کرنے سے دنیا کی مختلف آزمائشوں سے نجات مل سکتی ہے؟ ہر شخص یقینا یہ چاہتا ہے کہ اسے ان دونوں سوالوں کے جوابات معلوم ہو جائیں تا کہ وہ ایک خوشحال و باوقار زندگی حاصل کر سکے اور دنیا کی پریشانیوں سے چھٹکارا پا سکے۔ ذیل میں قرآن وسنت کی روشنی میں ایک کامیاب اور خوشحال زندگی کے حصول اور پریشانیوں وآزمائشوں سے نجات حاصل کرنے کے چند اصول ذکر کیے گئے ہیں مجھے یقین کامل ہے اگر ہم ان پر عمل کریں گے تو ضرور بالضرور اپنے مقصود تک پہنچ جائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
پہلا اصول: ایمان وعمل
الله تعالی نے فرمایا:
(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَ لَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) [النحل97:]
جو شخص نیک عمل کرے ، مرد ہو یا عورت بشرطیکہ ایمان والا ہو تو اسے ہم یقینا بہت ہی اچھی زندگی عطا کریں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور دیں گے۔
دوسرا اصول: نماز
کامیاب اور خوشحال زندگی کا دوسرا اصول نماز ہے جو الله تعالی کا تقرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
الله تعالی فرماتے ہیں:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ [البقرۃ:153]
اے ایمان والو! (جب کوئی مشکل درپیش ہو تو) صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، یقینا الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ الله تعالی صبر کرنے والے اور نماز پڑھنے والے بندہ مومن کی مدد فرماتا ہے اور اسے تمام مشکلات سے نجات دیتا ہے۔
تیسرا اصول: تقوی
تقوی دنیا کے دکھوں ، تکلیفوں اور پریشانیوں سے نجات پانے کیلئے اور خصوصا ان لوگوں کیلئے ایک نسخہ کیمیا ہے جو بے روزگاری، غربت اور قرضوں کی وجہ سے انتہائی پریشان حال اور سرگرداں رہتے ہوں۔
الله تعالی نے فرمایا:
وَمَنْ یَتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا* وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ [الطلاق: 2-3]
اور جو شخص الله سے ڈرے گا وہ (الله) اس کیلئے (مشکلات سے نکلنے )کا کوئی راستہ بنا دے گا۔ اور اسے (ایسی جگہ سے) رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔
چوتھا اصول :توبہ واستغفار
انسان پر جومصیبت بھی آتی ہے ہرقسم کی مصیبت اس کے اپنے گناہوں کی وجہ سے آتی ہے ۔ اس لئے اسے ان سے نجات پانے کیلئے فورا تو بہ کرتے ہوئے اللہ تعالی سے معافی مانگنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالی توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا ازالہ کر کے انھیں خوشحال بنا دیتا ہے۔
توبہ واستغفار کے فوائد بیان کر تے ہوئے نوح علیہ السلام نے کہا:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہ کَانَ غَفَّارًا یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْہٰرًا [نوح: 10-12]
پس تم سب اپنے رب سے معافی مانگ لو ۔ بلا شبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، مال اور بیٹوں سے تمھاری مدد کرے گا ،تمھارے لئے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کر دے گا۔
پانچواں اصول: دعا
الله تعالی سے خوشحالی کا اور مشکلات، غموں اور صدموں سے نجات پانے کا سوال کرنا ۔ کیونکہ خوشحالی کے تمام خزانوں کی چابیاں الله رب العزت ہی کے پاس ہیں اور مصائب و آلام سے نجات دینے والا اس کے سوا اور کوئی نہیں ۔ اور بندۂ مومن جب الله تعالی کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالی کو شرم آتی ہے کہ وہ انہیں خالی لوٹا دے ۔جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے سیدنا عبادہ بن صامت رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَا عَلَی الْأَرْضِ مُسْلِمٌ یَدْعُو اللہَ بِدَعْوَۃٍ إِلَّا آتَاہُ اللہُ إِیَّاہَا، أَوْ صَرَفَ عَنْہُ مِنَ السُّوئِ مِثْلَہَا مَا لَمْ یَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِیعَۃِ رَحِمٍْ ترمذی: 3573]
خطۂ زمین پر پایا جانے والا کوئی مسلمان جب الله تعالی سے کوئی دعا کرتا ہے تو الله تعالی اسے اس کی طلب کی ہوئی چیز دے دیتا ہے یا اس جیسی کوئی مصیبت اس سے ٹال دیتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔
چھٹا اصول: ذکر الٰہی
الله تعالی فرماتے ہیں:
(اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ)[الرعد28:]
جو ایمان لائے اور ان کے دل الله کی یاد سے چین پاتے ہیں ، سن لو! الله کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں ۔
اس آیت کی روشنی میں ہمیں بحیثیت مومن اس بات پر یقین کامل ہونا چاہئے کہ ذکر الٰہی سے ہی دلوں کو تازگی ملتی ہے، حقیقی سکون نصیب ہوتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ آج کل بہت سارے مسلمان اپنے غموں کا بوجھ ہلکا کرنے اور دل بہلانے کیلئے گانے سنتے اور فلمیں دیکھتے ہیں حالانکہ اس سے غم ہلکا ہونے کی بجائے اور زیادہ ہوتا ہے۔
ساتواں اصول: شکر
جب بندہ الله تعالی کی بے شمار وان گنت نعمتوں پر شکر گذار ہوتا ہے تو الله تعالی ہمیں اور زیادہ نعمتوں سے نوازے گا۔
الله تعالی کا فرماتے ہیں:
(اِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ) [إبراہیم:7]
اور یادرکھو! تمھارے رب نے خبر دار کر دیا تھا کہ اگر شکر گذار بنو گے تو میں تمھیں اور زیادہ دوں گا۔ اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب بہت سخت ہے ۔
آٹھواں اصول: صبر
بندہ مومن کو جب کوئی پریشانی یا تکلیف ہو تو وہ اسے برداشت کرے ، اس پر صبر اور الله تعالی کی تقدیر پر اپنی رضا مندی کا اظہار کرے تو اسے اطمینان قلب نصیب کرے گا۔رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
(عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ ؛ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّا ء شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ، وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّا ءصَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ) [مسلم :2999]
مومن کا معاملہ یا عجیب ہے اور اس کا ہر معاملہ یقینا اس کیلئے خیر کا باعث ہوتا ہے ۔ یہ خوبی سوائے مومن کے اور کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔
نواں اصول: توکل
وہ لوگ جن پر دشمن کی شرارتوں کا خوف طاری رہتا ہو اور اس کی وجہ سے وہ سخت بے چین رہتے ہیں ان کی خوشحالی کیلئے خصوصا اور باقی تمام لوگوں کیلئے بالعموم سا تواں اصول یہ ہے کہ وہ صرف الله تعالی پر توکل (بھروسہ) کریں کیونکہ الله تعالی ہی ہر شر سے بچانے والا ہے اور اس کے علم کے بغیر طاقت ورسے طاقت ور بھی کسی کو کوئی نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہے ۔ الله تعالی نے فرمایا :
(وَمَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہُ إِنَّ اللہَ بَالِغُ أَمْرِہِ) [الطلاق:3]
اور جو شخص الله پر بھروسہ کر لے تو وہ اسے کافی ہے ۔ اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُونَ عَلَی اللہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرُزِقْتُمْ کَمَا یُرْزَقُ الطَّیْرُ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا) [ترمذی: 2344]
اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو دیا جاتا ہے وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس آتے ہیں۔
دسواں اصول: مسلمانوں کی پریشانیاں دور کرنا
دنیا میں دکھوں اور پریشانیوں سے نجات پانے کیلئے دسواں اصول یہ ہے کہ آپ اپنے مسلمان بھائیوں کی پر یشانیاں دور کرنے میں ان کی مدد کر میں ، اللہ تعالی آپ کی پریشانیاں دور کرے گا اور آپ کو خوشحالی وسعادتمندی نصیب کرے گا ۔رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
(مَنْ یَسَّرَ عَلَی مُعْسِرٍ یَسَّرَ اللہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ) [ابن ماجہ:2417]
جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور اس کی پریشانی دور کی جائے تو وہ تنگ دست کی پریشانی کو دور کرے ۔
یعنی ایک تنگ حال کی تنگی و پریشانی دور کرنے سے اللہ تعالی اس کی دعا کو قبولیت سے نوازتا ہے اور اس کی پریشانیاں دور کر دیتا ہے ۔
معزز قارئین! ہم نے آغاز میں دوسوال ذکر کئے تھے ، ایک یہ کہ خوشگوار زندگی کا حصول کیسے ممکن ہے اور کامیاب زندگی کے اصول کون سے ہیں ؟ اور دوسرا یہ کہ دنیا میں پریشانیوں ، دکھوں اور مصائب و آلام سے نجات پانے کے اصول کیا ہیں؟ ہمیں امید ہے کہ ان دونوں سوالوں کے جوابات کافی حد تک دیے جا چکے ہیں ۔ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہم سب کو خوشگوار زندگی نصیب کرے ، ایمان و عمل کی سلامتی دے اور ہمیں تمام پریشانیوں، دکھوں اور صدموں سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین!