اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (فصلت: 30)
ترجمہ: بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہو جاؤ جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔استقامت کا مفہوم اور پختگیِ ایمان
ایمان کا معنی زبان سے اقرار، دل سے تصدیق اور اعضاء سے عمل ہے۔ ان تین چیزوں کا نام ایمان ہے، ایک بھی کم ہوئی تو ایمان جاتا رہا۔ جب انسان ایمان کو اپنے دل میں پختہ کر لیتا ہے اور اس کی لذت محسوس کر لیتا ہے، تب استقامت اختیار کرتا ہے۔ پھر وہ اپنی جان اور گھر بار کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے۔
جو شخص اپنے چہرے، لباس اور خوراک کو قرآن و سنت کے مطابق نہیں کر سکا، وہ استقامت کیا اختیار کرے گا؟ استقامت تو ایمان کی لذت سے آتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً» (صحیح مسلم: 34)
ترجمہ: اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔اصحابِ اخدود اور استقامت کی مثال
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا۔ جب جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج کہ میں اسے جادو سکھاؤں۔ بادشاہ نے ایک لڑکا بھیجا۔ اس لڑکے کے راستے میں ایک راہب (عیسائی درویش) تھا، لڑکا اس کے پاس بیٹھا اور اس کا کلام سنا تو اسے اس کی باتیں اچھی لگیں۔
ایک بار راستے میں ایک بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ لڑکے نے پتھر لیا اور کہا: “الٰہی! اگر راہب کا طریقہ تجھے جادوگر کے طریقے سے زیادہ پسند ہو، تو اس جانور کو قتل کر دے۔” اس نے پتھر مارا تو جانور مر گیا۔ راہب نے یہ دیکھ کر کہا: “بیٹا! تو مجھ سے بڑھ گیا ہے، اب تو آزمایا جائے گا، تو میرا نام نہ بتانا۔”
وہ لڑکا اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنے لگا۔ بادشاہ کا ایک اندھا وزیر ایمان لایا تو اللہ نے اسے بینائی دے دی۔ جب بادشاہ کو علم ہوا تو اس نے وزیر اور راہب کو پکڑا اور دین سے پھرنے کا حکم دیا، انکار پر ان کے سروں پر آرے رکھ کر انہیں دو ٹکڑے کر دیا گیا۔ پھر لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی اور کشتی کے ذریعے سمندر میں غرق کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اللہ نے اسے بچا لیا۔ آخر میں لڑکے نے کہا کہ تو مجھے تبھی مار سکے گا جب سب لوگوں کو جمع کر کے “بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ” (اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے) کہہ کر تیر مارے۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا شہید ہو گیا۔ یہ دیکھ کر تمام لوگ پکار اٹھے: “ہم اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے!”
بادشاہ نے غصے میں خندقیں کھدوائیں اور آگ بھڑکائی کہ جو دین سے نہ پھرے اسے آگ میں ڈال دو۔ وہاں ایک عورت اپنے بچے کے ساتھ ہچکچائی تو شیر خوار بچے نے کلام کیا:
«يَا أُمَّهْ اصْبِرِي فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ» (صحیح مسلم: 3005)
ترجمہ: اے میری ماں! صبر کر، بے شک تو سچے دین پر ہے۔استقامت کے ثمرات اور فضیلت
- خوف اور غم کا خاتمہ:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۔ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الاحقاف: 13-14)
ترجمہ: بے شک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے، تو نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جنت والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔- فرشتوں کی دوستی اور بشارت:
نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (فصلت: 31)
ترجمہ: ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی، اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور جو تم مانگو گے۔انبیاء اور صحابہ کی استقامت کے واقعات
- سیدنا ابراہیم علیہ السلام: آپ نے بتوں کو توڑ دیا اور اپنی دعوت پر ایسی استقامت دکھائی کہ آگ میں گرنا گوارا کر لیا۔ اللہ نے فرمایا:
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ (البقرہ: 124)
ترجمہ: اور یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں سے آزمایا تو اس نے انہیں پورا کر دیا۔- حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ: مسیلمہ کذاب نے ان کے اعضاء کٹوا دیے، مگر انہوں نے استقامت کا تاج سر پر سجائے رکھا اور شہادت کو گلے لگایا۔
- سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ: روم کے بادشاہ نے جب انہیں آگ کی دیگ دکھائی تو آپ نے فرمایا کہ کاش میرے جسم کے بالوں کے برابر جانیں ہوتیں اور میں اللہ کی راہ میں ایک ایک کر کے قربان کر دیتا۔
- سیدنا خباب بن ارت، بلال حبشی اور دیگر صحابہ: ان نفوسِ قدسیہ نے سخت ترین تکالیف میں بھی “احد احد” کی صدا بلند کی اور استقامت کی مثال قائم کی۔
حکمِ استقامت
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا:
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (ہود: 112)
ترجمہ: پس تو خوب ثابت قدم رہ، جیسے تجھے حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی ہے، اور حد سے نہ بڑھو۔سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کی درخواست پر آپ ﷺ نے فرمایا:
«قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ، فَاسْتَقِمْ» (صحیح مسلم: 38)
ترجمہ: کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر پکے ہو جاؤ۔