اسلام نے بچے کی پیدائش پر درج ذیل مسنون اعمال کی ترغیب دی ہے:
1. Ghatti / Tahneek (گھٹی دینا)
بچے کی پیدائش کے بعد سب سے پہلا کام اسے گھٹی دینا ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ يُحَنِّكُهُ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَتْبَعَهُ المَاءَ»
اردو ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نو مولود بچہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی تحنیک کردیں اس بچہ نے آپ کے اوپر پیشاب کردیا ، آپ نے اس پر پانی بہا دیا ۔
حوالہ: صحیح بخاری: 5468
2. Aqiqa (ساتویں دن عقیقہ کرنا)
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى
اردو ترجمہ: سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے ( لہٰذا ) ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے ، اس کا سر مونڈا جائے اور نام رکھا جائے ۔
حوالہ: سنن ابی داؤد: 2838 (صحیح)
Janwaro ki Tadad (جانوروں کی تعداد)
لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور زبح کیا جائے گا
عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»
اردو ترجمہ: حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے: ”لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری (عقیقہ کے طور پر ذبح کی جائے)۔“
حوالہ: سنن ابن ماجہ: 3162 (صحیح)
نوٹ: عقیقہ کے جانور میں صرف ایک شرط ہے کہ وہ شاة بکری کی نسل سے ہو اور عید الاضحی قربانی کی دیگر شرائط وضوابط ضروری نہیں ہیں
3. Sar Moondna aur Sadqa (سر مونڈنا اور صدقہ)
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَسَنِ بِشَاةٍ وَقَالَ يَا فَاطِمَةُ احْلِقِي رَأْسَهُ وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً قَالَ فَوَزَنَتْهُ فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ
اردو ترجمہ: علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اور فرمایا: ‘فاطمہ! اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو’، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابر یا اس سے کچھ کم ہوا۔
حوالہ: جامع ترمذی: 1519 (حسن)
4. Naam Rakhna (نام رکھنا)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ»
اردو ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “آج رات میرا ایک بیٹا پیدا ہوا ہے جس کا نام میں نے اپنے والد (سیدنا) ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے۔”
حوالہ: صحیح مسلم: 6025
5. Khatna (ختنہ کرنا)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رِوَايَةً: «الفِطْرَةُ خَمْسٌ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الفِطْرَةِ: الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ»
اردو ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ چیزیں پیدائشی سنتوں میں سے ہیں: ختنہ کرانا، موئے زیر ناف مونڈنا، بغل کے بال نوچنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کم کرانا۔
حوالہ: صحیح بخاری: 5889
Khatna Karwane Ki Sahi Umar (ختنہ کی صحیح عمر)
اسلام میں ختنہ “فطرت” میں سے ہے، لیکن اس کے لیے کوئی ایک مخصوص عمر فرض نہیں کی گئی۔ البتہ بہت سے اہل علم نے بلوغت کے قریب ختنہ کرنے کو افضل اور مستحب قرار دیا ہے، تاکہ بچہ اس اہم سنت سے واقف ہو سکے۔
صحیح بخاری کی روایت ہے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کی کیا عمر تھی؟ انہوں نے جواب دیا:
“أَنَا يَوْمَئِذٍ مَخْتُونٌ، قَالَ: وَكَانُوا لاَ يَختِنُونَ الرَّجُلَ حَتَّى يُدْرِكَ”
“اس وقت میرا ختنہ ہوچکا تھا، (اور اس زمانے میں لوگ) اس وقت تک لڑکے کا ختنہ نہیں کرواتے تھے جب تک کہ وہ بلوغت کے قریب نہ پہنچ جاتا۔”
حوالہ: صحیح بخاری: 6299
اہم نوٹ (Clarification):
آج کل طبی سہولیات اور بچے کی آسانی کے پیشِ نظر پیدائش کے ابتدائی دنوں (جیسے ساتویں دن) ختنہ کروانا سنت سے ثابت اور طبی طور پر مفید سمجھا جاتا ہے۔
Azaan aur Iqamat (اذان اور اقامت)
نو مولود کے کان میں اذان دینے کے متعلق مختلف کتبِ حدیث میں ایک روایت آتی جسے اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم چند ایک علماء نے اسے حسن کہا ہے۔ علمی تحقیق کے مطابق یہ نبی کریم ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔
اقامت: دوسرے کان میں اقامت کہنے کے حوالے سے کوئی بھی بات محدثین کے نزدیک ثابت نہیں ہے۔