Abdulghaffar Madni

اتباعِ رسول ﷺ: کامیابی کا واحد راستہ

اسلامی نظامِ زندگی میں اصل کامیابی کا مدار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت پر ہے۔ جو شخص اپنی زندگی کو اسوۂ حسنہ کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے، وہی دنیا و آخرت میں سرخرو ہوتا ہے۔

1۔ اطاعتِ رسول ﷺ کا حکم اور اہمیت

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا دو ٹوک حکم دیا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ (سورۃ محمد: 33)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔اطاعتِ الٰہی کا عملی طریقہ اتباعِ رسول ﷺ ہے:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (سورۃ آل عمران: 31)

ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا۔

2۔ اتباع کے ثمرات اور فوائداتباعِ رسول ﷺ میں انسان کے لیے بے شمار فوائد پوشیدہ ہیں:

* ہدایت کی ضمانت:

(وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا)

“اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے”۔

* جنت میں داخلہ:

وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سورۃ النساء: 13)

ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

* خیر اور ثابت قدمی:

وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا (سورۃ النساء: 66)

ترجمہ: اور اگر وہ وہی کام کرتے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور (ایمان پر) زیادہ ثابت قدمی کا سبب ہوتا۔

3۔ سنت سے اعراض کا انجام

سنت کی پیروی سے انکار جنت سے محرومی کا سبب ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: «مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى» (صحیح بخاری: 7280)

ترجمہ: میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! انکار کون کرے گا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے (جنت میں جانے سے) انکار کیا۔دین میں اپنی طرف سے نکالا گیا ہر وہ عمل جو سنت کے مطابق نہ ہو، مردود ہے:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ» (صحیح مسلم: 1718)

ترجمہ: جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں، تو وہ عمل رد (مسترد) ہے۔

4۔ صحابہ کرامؓ کا جذبۂ اتباع (حقیقی آئیڈیل)صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی ﷺ کو اپنا حقیقی آئیڈیل سمجھا اور بغیر کسی حیل و حجت کے فوراً عمل کیا۔

ایمان افروز چند واقعات:

* سونے کی انگوٹھی پھینک دینا: سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتار کر پھینک دیا۔ آپ ﷺ کے جانے کے بعد لوگوں نے اس سے کہا کہ اسے اٹھا کر فائدہ اٹھا لو، تو اس نے کہا:

«لَا وَاللَّهِ، لَا آخُذُهَا أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَه رَسُولُ اللَّهِ ﷺ» (صحیح مسلم: 2090)

ترجمہ: “اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے پھینک دیا ہے۔”

* نماز میں جوتے اتارنا: دورانِ نماز آپ ﷺ نے جوتے اتارے تو صحابہ نے بھی اتار دیے، عرض کیا:

«رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا» (سنن ابی داؤد: 650)

ترجمہ: “ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔”

* سیدنا ابن مسعودؓ کی اطاعت: ایک بار آپ ﷺ مسجد میں خطبہ دے رہے تھے اور فرمایا: “بیٹھ جاؤ”۔ عبداللہ بن مسعودؓ ابھی مسجد کے دروازے پر ہی تھے کہ وہیں بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے جب انہیں دیکھا تو فرمایا: “اے عبداللہ بن مسعود! آگے آ جاؤ”۔ (سنن ابی داؤد: 1091)

5۔ محبتِ صادق کا تقاضامحبت کا دعویٰ تب ہی سچا ہے جب اس میں اطاعت ہو۔ عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہ

لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقًا لَأَطَعْتَهُ

إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيعُ

ترجمہ: اگر تیری محبت سچی ہوتی تو تو ضرور ان (ﷺ) کی اطاعت کرتا، کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے۔

کامیابی کا دارومدار “فرمانِ محمد ﷺ” پر سر جھکانے میں ہے:

فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ (سورۃ آل عمران: 185)

ترجمہ: پس جسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ کامیاب ہو گیا۔

مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو

ادھر فرمانِ محمد ہو ادھر گردن جھکائی ہو

Rate this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *