Abdulghaffar Madni

معوذتین کی فضیلت و معنی و مفہوم

معوذتین سے مراد قرآن مجید کی آخری دو سورتیں، سورہ الفلق اور سورہ الناس ہیں۔ انسان کو زندگی میں کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی وہ جسمانی تکلیف میں ہوتا ہے تو کبھی روحانی آفات کا شکار۔ معوذتین ہر قسم کی بیماریوں، شیطانی شرور، جادو، جنات اور نظرِ بد سے بچنے کے لیے ایک “حصنِ حصین” (مضبوط قلعہ) کا کام دیتی ہیں۔قرآن مجید سراپا شفا ہے، لیکن جو خاص مقام ان دو سورتوں (سورہ فلق اور سورہ ناس) کو حاصل ہے، وہ کسی اور سورت کو نہیں ملا۔ ان کے نازل ہونے سے پہلے نبی کریم ﷺ حفاظت کے لیے مختلف دعائیں اور دم کیا کرتے تھے، لیکن جب یہ سورتیں نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے انہیں اپنا مستقل معمول بنا لیا۔

قرآن کی تاثیر ابدی ہے؛ جس طرح شہد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں میٹھا تھا اور آج بھی میٹھا ہے، اسی طرح ان سورتوں میں آج بھی وہی اثر موجود ہے، بشرطیکہ انہیں پورے یقین اور خلوص کے ساتھ پڑھا جائے۔

معوذتین کی فضائل و اہمیت

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : معوذتین نازل ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں سے اور انسان کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب معوذتین اتریں تو آپ نے ان دونوں کو معمول بنا لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا۔

ترمذی : 2058

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے آپ پر معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے۔ جب آپ کا درد بہت بڑھ گیا تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ ہی کا ہاتھ اس ہاتھ کی برکت کی امید سے (آپ کے جسم پر) پھیرتی تھی۔

بخاری 5016

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ : «قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ

مسلم، : 814

کیا تم نے وہ آیات نہیں دیکھیں جو آج رات نازل کی گئی ہیں، جن کی مثل کبھی دیکھی ہی نہیں گئی؟ وہ سورۂ فلق اور سورۂ ناس ہیں۔

سیدنا ابن عابس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :

أَلاَ أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا يَتَعَوَّذُ بِهِ الْمُتَعَوِّذُوْنَ؟ قَالَ بَلٰي يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ هَاتَيْنِ السُّوْرَتَيْنِ

نسائی 5434

کیا میں تمھیں سب سے افضل چیز نہ بتاؤں جس کے ساتھ پناہ پکڑنے والے پناہ پکڑتے ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا : ’’کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ یہ دو سورتیں۔

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے متعلق پوچھا۔ عقبہ فرماتے ہیں کہ (ہم نے یہ سوال کیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سورتوں کے ساتھ صبح کی جماعت کروائی۔

نسائی: 5436

اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قراءت کی جگہ ان دو چھوٹی چھوٹی سورتوں کو کافی سمجھا۔

معوذتین پڑھنے کے اوقات اور اس کے مزید فضائل

صبح اور شام کے وقت

سیدنا عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

خَرَجْنَا فِيْ لَيْلَةٍ مَّطِيْرَةٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيْدَةٍ نَطْلُبُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ لَنَا، قَالَ فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ قُلْ، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ قُلْ، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، قَالَ قُلْ، فَقُلْتُ مَا أَقُوْلُ؟ قَالَ قُلْ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِيْنَ تُمْسِيْ وَ تُصْبِحُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيْكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ

ترمذی: 3575

ہم ایک بارش اور سخت اندھیرے والی رات میں نکلے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہے تھے، تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں۔ چنانچہ میں آپ سے جا ملا، تو آپ نے فرمایا : کہو۔ میں نے کچھ نہ کہا، آپ نے پھر فرمایا : ’’کہو۔ تو میں نے کچھ نہ کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : کہو۔ میں نے کہا : میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور معوذتین صبح و شام تین تین مرتبہ کہہ، یہ تجھے ہر چیز سے کافی ہو جائیں گی۔

فرض نماز کے اذکار میں

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا:

أن أقرأَ بالمعوِّذاتِ دُبُرَ كلِّ صلاةٍ

ابو داود:1523، نسائي:1335

کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں ۔

سونے کے وقت

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :

كان إذا أوى إلى فراشِه كلَّ ليلةٍ، جمع كفَّيه ثم نفث فيهما، فقرأ فيهما : {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } . و{ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } . و{ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } . ثم يمسحُ بهما ما استطاعَ من جسدِه، يبدأُ بهما على رأسِه ووجهِه، وما أقبل من جسدِه، يفعل ذلك ثلاثَ مراتٍ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو دونوں ہتھیلیوں کو جمع کرتے پھر ان میں پھونکتے۔ دونوں میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھتے، پھر دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک ہو سکتا پھیرتے۔ پھیرنے کی ابتدا سر ،چہرے اور جسم کے سامنے والے حصے سے کرتے۔ آپ اس طرح تین مرتبہ کرتے۔ بخاری : 5017

معوذتین کا معنی و مفہوم پناہ مانگنے کا مطلب: اللہ کی پناہ مانگنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف زبان سے چند الفاظ دہرا دیے جائیں، بلکہ اس کے کچھ ضروری تقاضے ہیں:

* برائی سے دوری: پناہ مانگنے کا اصل مقصد ان تمام کاموں اور خواہشات کو چھوڑنا ہے جو شیطان کو پسند ہیں۔

* ایک مثال: اگر سامنے سے کوئی درندہ آ رہا ہو اور آپ صرف یہ کہیں کہ “میں قلعے کی پناہ لیتا ہوں” مگر قلعے کی طرف قدم نہ بڑھائیں، تو آپ محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اسی طرح برائی سے بچنے کے لیے دعا کے ساتھ عملی کوشش بھی ضروری ہے۔

* سچائی کی شرط: جس طرح کلمہ طیبہ صرف سچے دل سے پڑھنے پر فائدہ دیتا ہے، اسی طرح اللہ کی پناہ بھی تبھی کام آتی ہے جب انسان عملی طور پر اللہ کا فرمانبردار بن جائے۔

پناہ (استعاذہ) کی اقسام

شریعت میں پناہ لینے کی دو بنیادی صورتیں ہیں:

ظاہری اسباب کی پناہ: دشمن سے بچنے کے لیے قلعہ، خندق یا کسی طاقتور شخص کی پناہ لینا۔ یہ جائز اور انسانی ضرورت ہے۔

حقیقی و اعتقادی پناہ: وہ خطرات جہاں دنیا کے تمام مادی ذرائع ناکام ہو جائیں، وہاں صرف اللہ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔ اللہ کے علاوہ کسی دیوی دیوتا، جن یا پیر پیغمبر سے ایسی پناہ مانگنا شرک ہےقرآن و سنت میں جہاں بھی اللہ کی پناہ کا ذکر ہے اس کا تعلق دوسری قسم کی پناہ کے ساتھ ہے

سورہ فلق: ظاہری اور باطنی شر سے حفاظت

اس سورت میں ہم اللہ کو “رب الفلق” کہہ کر پکارتے ہیں۔ “فلق” کا مطلب ہے “پھاڑ کر نکالنے والا”۔ اس کے دو مطلب ہیں:

وہ اللہ جو رات کی تاریکی کو چاک کر کے صبح کا اجالا لاتا ہے۔

وہ اللہ جو زمین سے پودے، انڈے سے بچہ اور بادلوں سے بارش نکالتا ہے۔

اس سورت میں تین بڑے خطروں سے پناہ مانگی گئی ہے:

ہر مخلوق کا شر: یعنی کائنات کی کسی بھی چیز سے پہنچنے والی تکلیف۔

اندھیری رات کا شر: کیونکہ رات کے اندھیرے میں مجرم، زہریلے جانور اور جراثیم زیادہ سرگرم ہوتے ہیں اور انسان بے بس ہوتا ہے۔

جادوگروں کا شر: جو چھپ کر وار کرتے ہیں اور انسان کو پتا بھی نہیں چلتا کہ اسے تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔

حسد کی حقیقت اور اس کا نقصان

حسد یہ ہے کہ دوسرے کی نعمت دیکھ کر جلنا اور یہ چاہنا کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے۔

حاسد دراصل اللہ کے فیصلے پر ناراض ہوتا ہے، اس لیے وہ اللہ کا بھی دشمن ہے اور بندوں کا بھی۔

* علاج: حاسد خود اپنی ہی آگ میں جلتا ہے، جبکہ جس سے حسد کیا جائے اسے صبر کرنے پر اجر ملتا ہے۔

* رشک: کسی کی نیکی دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ “کاش مجھے بھی یہ نیکی ملے” جائز اور پسندیدہ ہے۔

سورہ ناس: ایمان کی حفاظت کا قلعہ

انسان مشکل میں تین طرح کی پناہ ڈھونڈتا ہے اور اللہ نے اس سورت میں اپنی تینوں صفات بیان کر دیں:

* رب الناس: وہ جو سب کو پالنے والا ہے۔

* ملک الناس: وہ جو سب کا اصل بادشاہ ہے۔

* الہ الناس: وہ جو سب کا حقیقی معبود ہے۔سورہ فلق اور ناس میں فرق:سورہ فلق جسم اور جان کی حفاظت کے لیے ہے، جبکہ سورہ ناس “ایمان” کی حفاظت کے لیے ہے۔ ایمان کی حفاظت جسم سے زیادہ اہم ہے، اسی لیے اس سورت میں اللہ کی تین صفات کے ذریعے صرف ایک بڑے دشمن “وسوسے” سے پناہ مانگی گئی ہے جبکہ سورہ فلق میں ایک صفت سے تین چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہےوسوسہ ڈالنے والا شیطان (خناس) شیطان کو “خناس” اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ بار بار حملہ کرتا ہے اور ذکرِ الٰہی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ہمارے دشمن کون ہیں؟

وسوسہ ڈالنے والے تین طرح کے دشمن ہو سکتے ہیں:

* جن شیطان: جو نظر نہیں آتے مگر دلوں میں برائی ڈالتے ہیں۔

* انسان شیطان: وہ برے لوگ جو باتوں اور دھوکے سے ہمیں غلط راستے پر ڈالتے ہیں۔

* اپنا نفس: ہماری اپنی غلط خواہشات جو ہمیں اللہ کی نافرمانی پر اکساتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے