Abdulghaffar Madni

توبہ اور استغفار کی فرضیت واہمیت اور شرائط و فضیلت

توبہ کا معنی اور حکم
توبہ کا معنی پلٹنا اور رجوع کرنا ہے تو گناہ پر توبہ کا یہ مطلب ہو گا کہ ایک غلام اپنے اپنے آقا و مولا کا نافرمان بن کر اس سے منہ پھیر گیا تھا اور اب اپنے کیے پر پشیمان اور شرمندہ ہو کر اطاعت و فرمانبرداری کی طرف پلٹ آیا ہے۔
توبہ کرنا فرض ہے جو توبہ نہیں کرتا وہ ظالم ہے
الله تعالیٰ فرماتے ہیں:
اور جس نے توبہ نہ کی سو وہی اصل ظالم ہیں۔ [الحجرات : 11]
توبہ کی شرائط
1- جہالت:
توبہ (جس کا قبول کرنا) اللہ کے ذمے (ہے) صرف ان لوگوں کی ہے جو جہالت سے برائی کرتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں، تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ پھر مہربان ہو جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔[النساء : 17]
2- ندامت:
گناہ سے ندامت اختیار کرلینا ہی توبہ ہے۔[سلسلة الصحيحة:3657]
3- اخلاص؛ ریا کاری نہ ہو:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ، تمھارا رب قریب ہے کہ تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔۔۔ ۔[التحريم : 8]
4- اعتراف:
عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہتان( واقعہ افك)والے قصے كے بارے میں مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اما بعد ! اےعائشہ ! مجھے تمہارے بارے میں فلاں فلاں اطلاع ملی ہے، ( تم بھی آدم كی اولاد سے ہو) اگر تم بَری ہو تو اللہ تعالیٰ بھی تمہاری براءت كر دے گا اور اگر تم نے كوئی گناہ كیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار كرو، اس سے توبہ كرو ، كیوں كہ بندہ جب گناہ كا اعتراف كر كے توبہ كرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس كی توبہ قبول كرتا ہے۔اور ایك روایت میں ہے: گناہ سے ندامت اختیار کرلینا ہی توبہ ہے۔[سلسلة الصحيحة:3657]
5- اصلاح كرے:
پھر جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کرے تو یقینا اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔[المائدة : 39]
6- گناہ چھوڑ دے: ترك المعصية: اور آئیندہ نہ کرنے کا پختہ عزم: عزم عن ترك المعصية:
اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔[آل عمران : 135]
7- الفاظ درست ہوں: الفاظ قرآن و سنت کے مطابق ہوں اور کفریہ و شرکیہ نہ ہوں:
سيده عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے ایسا عمل کیا ، ہمارا دین جس کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے۔ [صحيح مسلم: 4493]
توبہ کے الفاظ کفریہ و شرکیہ نہ ہوں کسی کے طفیل و واسطے سے توبہ نہ کرے ایک تو گناہ کیا اوپر سے مزید شرک بھی کر رہا ہے۔
معافی مانگے:
جیسا کہ آدم علیہ السلام کے بارے مشہور ہے انہوں نے الله سے معافی مانگی:
پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے، تو اس نے اس کی توبہ قبول کر لی، یقینا وہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ [البقرة : 37]
8- توبہ اس کے وقت میں ہو: اور توبہ کے دو وقت ہیں۔
1_ موت سے پہلے پہلے:
اور توبہ ان لوگوں کی نہیں جو برے کام کیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجاتی ہے تو وہ کہتا ہے بے شک میں نے اب توبہ کر لی اور نہ ان کی ہے جو اس حال میں مرتے ہیں کہ وہ کافر ہوتے ہیں، یہ لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔ [النساء:18]
2_ قیامت سے پہلے پہلے:
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : اللہ عزوجل رات کو اپنا دست ( رحمت بندوں کی طرف ) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست ( رحمت ) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے ( اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا ) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔[صحیح مسلم: 6989]
9- حقوق الله اور حقوق العباد ادا کرے:
اگر حج نہیں کیا تو حج کرے اگر روزے نہیں رکھے کسی وجہ سے تو روزے رکھے۔ یہ الله کا حق ہے
حقوق العباد بھی ادا کرے:
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے کہا؛ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو ، نہ کوئی سازوسامان ۔ آپ نے فرمایا : میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ ( دنیا میں ) اس کو گالی دی ہو گی ، اس پر بہتان لگایا ہو گا ، اس کا مال کھایا ہو گا ، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا ، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا ، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ [صحيح مسلم:6579]
توبہ کے فوائد
1- گناہ معاف:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ، تمھارا رب قریب ہے کہ تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے۔ [التحريم: 8]
2- گناہ نیکیوں میں تبدیل:
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا، کچھ نیک عمل تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ [الفرقان : 70]
3- قوت میں اضافہ:
اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، وہ تم پر بادل بھیجے گا، جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمھیں تمھاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو۔[هود : 52]
4- الله تعالیٰ کی خوشی:
حضرت انس رضى الله عنه بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اپنے بندے کی توبہ سے ، جب وہ اس کے حضور توبہ کرتا ہے ، اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ، جس کی سواری کسی جنگل بیاباں میں اس سے دور بھاگ گئی ہو ، جب کہ اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اس پر تھا ، وہ سواری سے مایوس ہو کر ایک درخت کے سائے تلے لیٹ گیا کیونکہ وہ اپنی سواری سے تو مایوس ہو چکا تھا ، وہ اسی کرب میں تھا کہ اچانک دیکھتا ہے کہ سواری اس کے پاس کھڑی ہے ، اس نے اس کی مہار تھامی ، پھر شدت فرحت سے کہا : اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں ، اور شدت فرحت کی وجہ سے وہ غلط کہہ بیٹھا ۔‘‘[ مُسلم]
5- جنت میں داخلہ:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ، تمھارا رب قریب ہے کہ تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔[التحريم : 8]

Rate this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *