حصہ اول: ماہِ رمضان المبارک، روزہ اور روزہ دار کی فضیلت
Hissa Awwal: Mah-e-Ramadan, Roza Aur Rozedar Ki Fazilat
1. ماہِ رمضان کی فضیلت
قرآن کا نزول اور روزے کی فرضیت
شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡهُ
ماہِ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے لیے باعثِ ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی روشن نشانیاں ہیں۔ تو تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ اس کا روزہ رکھے۔
(البقرة: 185)
رمضان کی پہلی رات اور جنت کے دروازوں کا کھلنا اور جہنم سے آزادی کی بشارت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ عَنْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: إِذَا كَانَتْ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ أَبْواَبُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ وَفُتِحَتْ أَبْواَبُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنْ النَّارِ وَذَلِكَ فِي کُلِّ لَيْلَةٍ
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔ اور ایک پکارنے والا منادی کرتا ہے: اے نیکی کے طلب گار! آگے بڑھ، اور اے برائی کے ارادہ رکھنے والے! رک جا۔ اور اللہ تعالیٰ جہنم سے (بعض) لوگوں کو آزاد کرتا ہے اور رمضان میں ہر رات اسی طرح ہوتا ہے۔
(سنن ابن ماجہ: 1642، صحیح)
لیلۃ القدر رمضان المبارک کی بہت بڑی فضیلت والی رات ہے
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ہزار مہینے 83 سال اور 4 مہینے بنتے ہیں۔ عام طور پر ایک انسان کو اتنی عمر بھی نہیں ملتی۔ یہ امتِ مسلمہ پر اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اسے اتنی فضیلت والی رات عطا کی۔
(القدر: 3)
2. روزے کی فضیلت
روزے کی فرضیت اور ایک بڑا مقصد تقوی
يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ
اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
(البقرة: 183)
روزہ اسلام کا ایک بنیادی ستون
عَنْ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
(صحيح بخاری: 8)
روزہ اللہ کے لیے ہے اور وہی اس کی جزا دے گا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابنِ آدم کے تمام عمل اس کے اپنے لیے ہیں سوائے روزے کے، وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
(صحيح بخاری: 1904)
روزہ ایک ڈھال ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ ایک ڈھال ہے، لہٰذا (روزہ دار) نہ فحش گوئی کرے اور نہ جہالت کی باتیں کرے۔
(صحيح بخاری: 1894)
3. روزے دار کی فضیلت
روزے دار کے لیے بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ
إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ… وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ… أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں… اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں… اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
(الأحزاب: 35)
روزے دار کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے گا، اللہ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دے گا۔
(صحيح بخاری: 38)
جنت کا خاص دروازہ “باب الریان” روزے داروں کے لیے ہے
عَنْ سَهْلٍ ؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ
حضرت سہل ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام “ریان” ہے، قیامت کے دن اس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
(صحيح بخاری: 1896)
روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہے اور منہ کی بو کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں؛ ایک خوشی اسے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔
(صحيح مسلم: 1151)
روزے سے ستر سال کی مسافت جہنم سے دوری کی بشارت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔
(صحيح بخاری: 2840)
روزے کی حفاظت
فحش گوئی اور جھگڑے سے بچنا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ فحش گوئی کرے اور نہ شور و غل (لڑائی جھگڑا) کرے۔ اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑنے لگے تو وہ (جواب دینے کے بجائے) کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔
(صحيح بخاری: 1904)
روزہ اور قیام کے اجر سے محرومی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: کَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ، وَکَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے بھوک کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور کتنے ہی راتوں کو قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں ان کے قیام سے سوائے جاگنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
(سنن ابن ماجہ: 1690، صحیح)
جھوٹ اور برے کاموں سے اجتناب
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔
(صحيح بخاری: 1903)
ماہِ رمضان المبارک: علمی و تحقیقی مضامین مطالعہ کے لیے لنک پر کلک کریں
Ramadan-ul-Mubarak: Important Articles & Guides