إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا و من سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله الصادق الوعد الأمين بلغ الرسالة وأدى الأمانة ونصح الأمة وكشف الله به الغمة وجاهد في الله حق جهاده وتركنا على المحجة البيضاء صلى الله عليه وسلم .أما بعد! فيا أيها الناس: اتقوا الله جل في علاه واقدروه حق قدره وأعطوا كل ذي حق حقه فإن ذلك من العدل الذي أمر الله به ولا تبخسوا الناس أشياء لهم ولا تعثوا فى الأرض مفسدين.
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور ہم اپنے نفس کے شرور اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو وعدے کے سچے اور امانت دار ہیں۔ آپ ﷺ نے پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، امت کی خیر خواہی فرمائی، اللہ نے آپ ﷺ کے ذریعے غموں کو دور فرمایا، آپ ﷺ نے اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کر دیا اور ہمیں ایک روشن شاہراہ پر چھوڑا (جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے)۔
اما بعد! اے لوگو:اللہ سے ڈرو جو بلند و برتر ہے، اس کی قدر کرو جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے، اور ہر حق والے کو اس کا حق دو، کیونکہ یہی وہ عدل ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔
مسلمانوں کی جماعت! نبی کریم ﷺ کے اپنی امت پر خاص طور پر اور پوری انسانیت پر عام طور پر کچھ حقوق ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور نبی ﷺ نے اپنی سنت مطہرہ میں بیان فرمایا ہے۔ یہ عظیم حقوق ہیں، جن میں سے چند اہم ترین ہم اللہ کی توفیق سے بیان کریں گے۔
1۔ نبی ﷺ پر سچا ایمان لانا
ایمان والوں کے بھائیو! آپ ﷺ کے حقوق میں سے ایک اہم حق یہ ہے کہ آپ ﷺ پر سچا ایمان لایا جائے۔
* ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ) [التغابن: 8]
ترجمہ: پس اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس نور (قرآن) پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔
* فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
«أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَّ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ»
ترجمہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور مجھ پر اور جو (شریعت) میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائیں۔
2۔ اطاعت اور فرمانبرداری
آپ ﷺ کا حق ہے کہ جن باتوں کا آپ ﷺ نے حکم دیا ان کی اطاعت کی جائے اور جن سے منع فرمایا ان سے رک جایا جائے۔
* ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ) [الأنفال: 20]
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو جبکہ تم (حکم) سن رہے ہو۔
* فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
«كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ أَبَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَأْبَى؟، قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى» [بخاری]
ترجمہ: میری تمام امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! انکار کون کرے گا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے (جنت میں جانے سے) انکار کیا۔
3۔ اتباع اور اسوہ حسنہ
تمام معاملات میں آپ ﷺ کی پیروی کرنا اور آپ ﷺ کی ہدایت کے مطابق چلنا آپ ﷺ کا حق ہے۔
* ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ) [آل عمران: 31]
ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔
* فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
«مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي»
ترجمہ: جس نے میری سنت سے اعراض کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
4۔ کمالِ محبت (سب سے زیادہ محبت)
آپ ﷺ کا حق ہے کہ آپ ﷺ سے گھر والوں، اولاد، والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبت کی جائے۔
* ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ… أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ… فَتَرَبَّصُواْ حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ) [التوبة: 24]
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے… تمہیں اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ پیارے ہیں، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔
* فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
«لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
ترجمہ: تم میں سے کوئی اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقاً لأَطَعْتَهُ
إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيعُ
(اگر تیری محبت سچی ہوتی تو تو ضرور اطاعت کرتا، کیونکہ محب اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے)۔
5۔ احترام، توقیر اور نصرت
آپ ﷺ کا ایک عظیم حق آپ ﷺ کا احترام کرنا، آپ ﷺ کی توقیر کرنا اور آپ ﷺ کے دین کی نصرت کرنا ہے۔
* ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ) [الفتح: 9]
ترجمہ: تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (رسول) کی مدد کرو اور اس کی توقیر (احترام) کرو۔
6۔ کثرت سے درود و سلام
آپ ﷺ کا حق ہے کہ مختلف مواقع پر آپ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجا جائے۔
* ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) [الأحزاب: 56]
ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
* فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
«مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا»
ترجمہ: جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
فَاللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَالتَّابِعِينَ.
اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر اور ان کی آل و اصحاب پر اور قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں پر درود، سلام اور برکتیں نازل فرما۔