حصہ اول: قیام اللیل: مفہوم، نام اور فضائل
(قرآن و سنت کی روشنی میں)
راہِ سلوک کی منزل کے مسافر کے لئے قیام اللیل کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ خلوت کی ساعتوں میں اپنے مولا سے عبودیت کا رشتہ استوار کرنے کے لئے قیام اللیل سے زیادہ اور کوئی مؤثر ذریعہ نہیں۔ قیام اللّیل راتوں کو جاگنے کا عمل ہے جو رضائے الٰہی کی خاطر رات کے کسی حصہ میں نوافل ادا کرنے، تلاوتِ قرآن اور ذکر واذکارمیں مشغول رہنے، بارگاہِ الٰہی میں مناجات کرنے، اپنے گناہوں پر نادم و شرمندہ ہو کر آنسو بہانے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں حصولِ حلاوت کے لئے سر انجام دیا جاتا ہے۔ اسے عرفِ عام میں شب بیداری کہا جاتا ہے۔
1۔ قیام اللیل کے مختلف نام اور ان کی وجوہات (وجہِ تسمیہ)
● قیام اللیل: اس سے مراد وہ نماز اور عبادات ہیں جو رات کے وقت انجام دی جاتی ہیں، خاص طور پر عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے۔ اسے قیام اللیل اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں رات کا ایک طویل حصہ اللہ کے حضور کھڑے ہو کر (قیام) گزارا جاتا ہے۔
● تہجد: تہجد کا مادہ ’’ہجود‘‘ ہے، اس کے معنی سونے اور جاگنے کے ہیں۔ لغت میں اس کے دو متضاد معنی آتے ہیں: “سونا” اور “جاگنا”۔ لیکن جب یہ بابِ تفعل (تہجد) میں استعمال ہوتا ہے، تو اس کا مطلب ہوتا ہے “نیند کو ترک کر کے عبادت کے لیے بیدار ہونا”۔ شریعت کی اصطلاح میں رات کو سو کر اٹھنے کے بعد جو نماز ادا کی جاتی ہے، اسے تہجد کہا جاتا ہے۔
● تراویح: تراویح ’’ترویحہ‘‘ کی جمع ہے، جس کا لغوی معنی “راحت پہنچانا” یا “آرام کرنا” ہے۔ چونکہ اس نماز میں ہر چار رکعت کے بعد ترویحہ (آرام) کیا جاتا ہے، اس لیے اسے تراویح کہتے ہیں۔ سلف صالحین اور صحابہ کرام ہر چار رکعت کے بعد تھوڑی دیر آرام کے لیے بیٹھا کرتے تھے، تاکہ اگلی رکعات کے لیے چستی حاصل ہو سکے۔
● صلوۃ اللیل: یہ ایک عمومی نام ہے جس کا مطلب ہے “رات کی نماز”، جو عشاء سے فجر تک کسی بھی وقت ادا کی جائے۔
● وتر: یہ قیام اللیل کی آخری نماز ہے جو طاق (ایک، تین یا پانچ) رکعات پر مشتمل ہوتی ہے، اسی مناسبت سے اسے وتر (طاق) کہا جاتا ہے۔
2۔ قیام اللیل کے فوائد اور اثرات (قرآنی تناظر میں)
● نفس کی پامالی اور اصلاح: رات کا اٹھنا نفس کو کچلنے اور اسے اللہ کا مطیع بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
● قول کی درستی اور تاثیر: رات کی یکسوئی زبان میں تاثیر اور قول میں راستی پیدا کرتی ہے۔
● گناہوں سے دوری: یہ سابقہ کوتاہیوں کا کفارہ اور مستقبل میں برائیوں سے بچنے کے لیے روحانی ڈھال ہے۔
● روحانی و جسمانی تندرستی: تہجد گزار اندرونی سکون محسوس کرتے ہیں، اور احادیث کے مطابق یہ عبادت جسم سے بیماریوں کو دور کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔
3۔ قیام اللیل کی فضیلت (تدریجی و مرحلہ وار دلائل)
1۔ نفس کی تربیت اور قول کی راستی:
إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا
’’بیشک رات کا اُٹھنا (نفس کو) سخت پامال کرتا ہے اور (دِل و دِماغ کی یکسوئی کے ساتھ) زبان سے سیدھی بات نکالتا ہےo‘‘
(المزمل: 6)
2۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور ذکر کا حکم:
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ
’’اور آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے جب بھی آپ کھڑے ہوںo اور رات کے اوقات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور (پچھلی رات بھی) جب ستارے چھپتے ہیں۔‘‘
(الطور: 48، 49)
3۔ رات کے طویل حصے میں سجدہ ریزی:
وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا
’’اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریںo اور رات کی کچھ گھڑیاں اس کے حضور سجدہ ریزی کیا کریں اور رات کے (بقیہ) طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیا کریںo‘‘
(الدهر: 25، 26)
4۔ جہنم سے نجات اور “عباد الرحمن” کی خاص صفت:
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا
“اور وہ لوگ جو اپنے رب کے حضور رات بسر کرتے ہیں سجدہ اور قیام میں۔”
(الفرقان: 64)
5۔ سحر کے وقت استغفار اور مغفرت کا حصول:
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
“وہ راتوں کو تھوڑی سی دیر سویا کرتے تھےo اور رات کے پچھلے پہروں میں (اٹھ اٹھ کر) مغفرت طلب کرتے تھے۔”
(الذاریات: 17-18)
6۔ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخلہ:
أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرو، اور رات کے وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں، تو تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔”
(جامع ترمذی: 2485)
7۔ فرائض کے بعد سب سے افضل نماز:
أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔”
(صحیح مسلم: 1163)
8۔ قبولیتِ دعا کی یقینی گھڑی:
إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لاَ يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “رات میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو بندہ مسلم اس کو پالیتا ہے اور دنیا اور آخرت کی جو بھی بھلائی مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ ضرور وہ چیز اس کو عطا فرماتے ہیں اور یہ معاملہ ساری رات رہتا ہے۔”
(صحیح مسلم: 757)
9۔ اللہ تعالیٰ کی خاص توجہ اور پکار:
يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ہمارا رب ہر رات کے آخری پہر آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت چاہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟”
(صحیح بخاری: 1145)
10۔ بندگی میں شکر گزاری کا کمال (حدیثِ عائشہ ؓ):
أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک پھٹ جاتے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنی مشقت کیوں فرماتے ہیں جبکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “تو کیا میں (اپنے رب کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں؟”
(صحیح بخاری: 4837)
11۔ نبی اکرم ﷺ کو تبلیغ کے ساتھ قیام کا حکم (سورت المدثر):
يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَکَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ
“اے کپڑوں میں لپٹنے والے! کھڑے ہو جائیے اور ڈرایئے، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے، اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیئے اور گندگی سے دور رہئے۔”
(المدثر: 1-5)
12۔ رات کو ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھنے کی تاکید (سورت المزمل):
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا
“اے چادر میں لپٹنے والے! رات کو قیام کرو مگر تھوڑا۔ آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیں، یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں”
(المزمل: 1-4)
13۔ سابقہ صالحین کا طریقہ اور جسمانی شفا:
عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ لِلإِثْمِ، وَمَطْرَدَةٌ لِلدَّاءِ عَنِ الجَسَدِ
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “قیام اللیل کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ رہا ہے، تمہارے رب کے قرب کا ذریعہ ہے، گناہوں کو مٹانے والا ہے، برائیوں سے روکنے والا ہے اور جسم سے بیماری کو دور کرنے والا ہے۔”
(جامع ترمذی: 3549)
❦