حصہ سوم: روزے کے احکام و مسائل
Hissa Suwwam: Rozay Ke Ahkam-o-Masail
1. سحری اور افطاری کے احکام
سحری کھانے کی فضیلت اور برکت
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ؓ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔
صحيح بخاری: 1923
اہلِ کتاب اور ہمارے روزے میں فرق
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ
عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔
صحيح مسلم: 1096
افطاری میں جلدی کرنا
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ؓ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ
حضرت سہل بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے۔
صحيح بخاری: 1957
2. روزے میں رعایت اور رخصت
بھول کر کھا پی لینا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور اس نے کچھ کھا لیا یا پی لیا، تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔
صحيح بخاری: 1933
سفر میں روزہ رکھنا یا چھوڑنا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي رَمَضَانَ فَلَا يُعَابُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمُهُ وَلَا عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارُهُ
ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں ہوتے، تو نہ روزہ رکھنے والے پر تنقید کی جاتی اور نہ روزہ چھوڑنے والے پر۔
صحيح مسلم: 1116
3. روزہ توڑنے والی چیزیں
جان بوجھ کر قے کرنا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ أَنَّ النَّبِيُّ ﷺ قَالَ: مَنْ ذَرَعهُ قَيْءٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَمَنْ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ جس کو خود بخود قے آ جائے اس پر قضا نہیں، لیکن جو جان بوجھ کر قے کرے، وہ اس روزے کی قضا کرے۔
جامع ترمذی: 720، صحیح
غذائی (طاقت کا) انجیکشن
ایسا انجیکشن جو توانائی یا غذا کے طور پر لگایا جائے جس سے بھوک پیاس کی شدت ختم ہو جائے، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
4. جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا
مسواک کرنا
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ؓ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيُّ ﷺ مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ
عامر بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو بے شمار مرتبہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا۔
صحيح بخاری: 1934 کے تحت باب
سر پر پانی ڈالنا
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ روزے کی حالت میں پیاس یا گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر مبارک پر پانی ڈال رہے تھے۔
سنن ابی داؤد: 2365، صحیح
آنکھ، کان اور عام انجیکشن
آنکھ میں قطرے ڈالنا، سرمہ لگانا، یا کان میں دوا ڈالنا (اگر وہ حلق سے معدے تک نہ پہنچے) اور اسی طرح عام بیماری کا انجیکشن (جو طاقت کے لیے نہ ہو) لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
ماہِ رمضان المبارک: علمی و تحقیقی مضامین مطالعہ کے لیے لنک پر کلک کریں
Ramadan-ul-Mubarak: Important Articles & Guides