حصہ چہارم: طریقہ قیام اللیل، مسنون رکعات اور نبوی ﷺ معمولات
قیام اللیل کی اصل روح سنتِ نبوی ﷺ کی کامل اتباع میں ہے۔ نبی کریم ﷺ کا قیام اللیل محض ایک رسمی عبادت نہیں بلکہ اپنے رب کے ساتھ رازو نیاز کا ایک طویل، پرکیف اور منظم سفر تھا۔
1۔ قیام اللیل کا دائمی معمول (رمضان و غیر رمضان کی وضاحت)
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ قیام اللیل (تہجد) صرف رمضان المبارک کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کا سارا سال کا دائمی عمل تھا۔ آپ ﷺ اس کی اس قدر پابندی فرماتے کہ سفر و حضر میں بھی اسے ترک نہ فرماتے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
2۔ تعدادِ رکعات کے مستند دلائل
نبی کریم ﷺ سے قیام اللیل کی رکعات کے بارے میں مختلف مستند روایات مروی ہیں:
گیارہ رکعات کا ثبوت: جیسا کہ صحیح بخاری (1147) کی روایت سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ اکثر آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر ادا فرماتے۔
* تیرہ رکعات کا ثبوت: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
* دو دو رکعت کی ترتیب: آپ ﷺ نے قیام اللیل کی ترتیب کا بنیادی اصول بیان فرمایا:
افتتاحی رکعات: آپ ﷺ قیام کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے فرماتے تاکہ بیداری کی سستی دور ہو جائے۔ (صحیح مسلم: 768)
3۔ قیام اللیل کا افضل وقت اور نبوی ﷺ ترتیب
اگرچہ قیام اللیل عشاء کے بعد سے فجر تک کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، لیکن اس کا افضل ترین وقت رات کا آخری پہر ہے۔
* قرآنی و نبوی دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الذاریات: 18)۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ فرمایا:
وقت کی تقسیم: آپ ﷺ کبھی رات کے شروع میں، کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں قیام فرماتے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کا قیام سحر تک پہنچ جاتا۔ (صحیح مسلم: 745)
آرام اور قیام کا توازن: آپ ﷺ رات کا کچھ حصہ سوتے، پھر قیام فرماتے، پھر سحر کے قریب وتر ادا فرماتے، اور پھر فجر کی سنتوں تک تھوڑی دیر لیٹ جاتے۔ (صحیح بخاری: 1146)
4۔ قیام کے طول اور کیفیت کی تفصیل
آپ ﷺ کا قیام اتنا طویل ہوتا کہ قدمین مبارک متورم ہو جاتے۔
تلاوت کا طول: سیدنا حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا۔ آپ ﷺ نے سورہ بقرہ شروع کی، پھر سورہ نساء اور پھر سورہ آل عمران پڑھی۔ آپ ﷺ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرماتے، جہاں تسبیح کی آیت آتی تسبیح کرتے اور جہاں دعا کی آیت آتی دعا مانگتے۔ (صحیح مسلم: 772)
* پاؤں کا ورم: طویل قیام کی بنا پر آپ ﷺ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ جب سیدہ عائشہ ؓ نے اس مشقت کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
رکوع و سجود کا طول: آپ ﷺ کا رکوع اور سجدہ بھی قیام کی طرح طویل ہوتا تھا۔ (صحیح بخاری: 1139)
5۔ تلاوت میں تدبر اور اثر پذیری
قیام اللیل کا اصل مقصود قرآن میں غوطہ زن ہونا ہے۔ حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک رات قیام کیا اور صبح تک (نماز میں) ایک ہی آیت دہراتے رہے:
6۔ قیام اللیل میں رخصت اور عوارض کا بیان
شریعت نے انسانی فطرت اور مجبوریوں کا لحاظ رکھا ہے:
* نیند کا غلبہ: آپ ﷺ نے فرمایا:
بیماری یا سفر کا اجر: اگر کوئی شخص پابندی سے قیام اللیل کرتا تھا لیکن بیماری یا سفر کی وجہ سے نہ پڑھ سکا، تو اللہ اسے مکمل اجر عطا فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری: 2996)۔
7۔ بیداری کے مسنون اذکار اور دعائیں
آپ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے (بخاری: 245) اور آسمان کی طرف دیکھ کر سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرماتے۔ (صحیح مسلم: 256)۔ نیز یہ جامع دعا پڑھتے:
8۔ گھر والوں کی شمولیت اور تاکید
آپ ﷺ نے اس شخص پر رحمت کی دعا فرمائی جو خود اٹھے اور اپنی بیوی کو جگائے (ابوداؤد: 1308)۔ آپ ﷺ وتر ادا کرنے سے پہلے سیدہ عائشہ ؓ کو جگاتے اور فرماتے: