Abdulghaffar Madni

حصہ پنجم: نمازِ وتر کے احکام و مسائل | Hissa Panjum: Namaz-e-Witr ke Ahkam-o-Masail

حصہ پنجم: نمازِ وتر کے احکام و مسائل

💎 وتر کی اہمیت اور شرعی حیثیت

نمازِ وتر کی تاکید بہت زیادہ ہے، تاہم یہ فرض نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ فرض نمازیں صرف پانچ ہیں:

خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ…
“پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض کی ہیں۔” (سنن ابوداؤد: 1420)

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ
“بے شک وتر تمہاری فرض نمازوں کی طرح لازمی (فرض) نہیں ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے جاری فرمایا (یہ آپ کی سنت ہے)۔” (جامع ترمذی: 453)

📊 وتروں کی مکمل تعداد اور اس کی دلیل

وتر کی رکعات ایک، تین، پانچ، سات اور نو تک ثابت ہیں۔

الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ
“وتر ہر مسلمان پر حق ہے۔ جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے وہ ایک پڑھے۔” (سنن ابوداؤد: 1422)

🕌 وتر ادا کرنے کا مسنون طریقہ

تین وتر پڑھنے کے دو طریقے سنت سے ثابت ہیں:

  • دو سلام کے ساتھ: یعنی دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرنا اور پھر ایک رکعت الگ پڑھیں (یہ افضل طریقہ ہے)۔
  • ایک سلام کے ساتھ: یعنی تینوں رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ پڑھنا، مگر اس میں دوسری رکعت میں قعدہ (تشہد) نہیں کرنا چاہیے تاکہ یہ نمازِ مغرب کے مشابہ نہ ہو۔
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ
“رسول اللہ ﷺ تین وتر پڑھتے تھے اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔” (سنن نسائی: 1698)

📖 دعائے وتر (قنوتِ وتر)

نبی کریم ﷺ نے سیدنا حسن بن علی ؓ کو وتروں میں پڑھنے کے لیے یہ جامع دعا سکھائی:

اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ
(جامع ترمذی: 464)

⚖️ دعا قنوت کا محل اور رکوع کے بعد ہاتھ اٹھانا

سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ (صحیح بخاری: 1002)۔

وتر کی دعا رکوع کے بعد پڑھنے اور اس میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کی صریح اور صحیح حدیث تو موجود نہیں، تاہم اہل علم نے اس کا استدلال “قنوتِ نازلہ” سے لیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ جب آپ ﷺ قنوتِ نازلہ فرماتے تو رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا فرماتے۔ چونکہ وتر کی قنوت بھی ایک دعا ہے، اس لیے قنوتِ نازلہ کے عمل پر استدلال کرتے ہوئے رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کر اسے پڑھنا جائز قرار دیا گیا ہے، اگرچہ صریح سنت رکوع سے پہلے ہی کی ہے۔


🌟 وتر میں سورتوں کی ترتیب اور مسنون تلاوت

نبی ﷺ اکثر تین وتروں میں یہ سورتیں تلاوت فرماتے:

  • پہلی رکعت میں: سورہ الاعلیٰ۔
  • دوسری رکعت میں: سورہ الکافرون۔
  • تیسری رکعت میں: سورہ الاخلاص۔
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
(سنن نسائی: 1701)

ترتیب کا مسئلہ: اگر کوئی شخص ایک رکعت وتر پڑھے تو وہ کوئی بھی سورت پڑھ سکتا ہے، لیکن اگر تین پڑھے تو مسنون ترتیب کا لحاظ رکھنا مستحب ہے۔ اگر بھول کر ترتیب الٹ جائے تو نماز ہو جاتی ہے۔


📿 وتر کے بعد اذکار

وتر سے سلام پھیرنے کے بعد درج ذیل اذکار مسنون ہیں:

  • سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ (تین مرتبہ)۔
    تیسری مرتبہ آواز کو لمبا اور بلند کرنا مسنون ہے۔ (سنن نسائی: 1732)
  • رَبِّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ (سنن دارقطنی: 2/31)

⏰ قضا وتر کا طریقہ اور قنوت کا حکم

اگر نیند یا بھول کی وجہ سے وتر رہ جائیں تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے۔

مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَهُ
“جو شخص وتر سے سوتا رہ جائے یا اسے بھول جائے، تو جب اسے یاد آئے وہ اسے پڑھ لے۔” (سنن ابوداؤد: 1431)

قنوت کا مسئلہ: راجح قول کے مطابق قنوتِ وتر صرف وتر کی مخصوص رکعت کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا دن میں قضا (مثلاً 12 رکعات) پڑھتے وقت قنوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نبی ﷺ اگر رات کو وتر نہ پڑھ پاتے تو اگلے دن بارہ رکعات ادا فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم: 746)


🌙 وتر کے بعد نفل پڑھنے کا جواز

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں، لیکن اللہ کے رسول ﷺ سے وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ وتر کے بعد نماز جائز تو ہے مگر “افضل” یہی ہے کہ وتر آخر میں ہوں۔

أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ
“بے شک نبی ﷺ وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔” (صحیح مسلم: 746)

⏳ وتر کا افضل وقت اور بیداری کا خدشہ

افضل وقت رات کا آخری پہر ہے، لیکن اگر بیدار نہ ہونے کا ڈر ہو تو سونے سے پہلے پڑھنا چاہیے۔

مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ
“جسے خوف ہو کہ وہ آخر رات میں نہیں اٹھ پائے گا، وہ شروع رات میں ہی وتر پڑھ لے۔” (صحیح مسلم: 755)

🚫 ایک رات میں دو مرتبہ وتر کی ممانعت

اگر شروع رات وتر پڑھ لیے تو دوبارہ نہیں پڑھے جائیں گے۔

لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ
“ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔” (سنن ابوداؤد: 1439)

💺 بیٹھ کر وتر ادا کرنا

نفل ہونے کی وجہ سے عذر کے بغیر بھی بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، مگر اجر آدھا ہوگا۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ… فَإِذَا أَرَادَ الْوِتْرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ
(صحیح بخاری: 999)

💡 اہم وضاحت: وتر اور قیام اللیل کا تعلق

یہ بات ذہن نشین رہے کہ نمازِ وتر درحقیقت قیام اللیل ہی کا ایک حصہ اور اس کا اختتامیہ ہے۔ قیام اللیل کی جتنی فضیلت و اہمیت قرآن و سنت میں بیان کی گئی ہے، وہ تمام برکات نمازِ وتر کو بھی حاصل ہیں۔ چونکہ وتر رات کی آخری عبادت ہے، اس لیے یہ بندے کے اپنے رب سے اس خاص تعلق کی تکمیل ہے جو رات کی تنہائی میں قائم ہوتا ہے۔ گویا وتر کا ہر سجدہ اور ہر دعا وہی مقام رکھتی ہے جو تہجد اور قیام اللیل کے طویل سجدوں کا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے