حصہ سوم: قیام اللیل میں معاون اسباب اور بیداری کی عملی تدابیر
قیام اللیل ایک توفیقِ الٰہی ہے، لیکن بندے کے لیے کچھ ایسے ظاہری اور باطنی اسباب اختیار کرنا ضروری ہے جو اسے اس سعادت کے حصول میں مدد فراہم کریں اور ان رکاوٹوں کو دور کریں جو اس راہ میں حائل ہوتی ہیں۔
1۔ قیام اللیل کی فضیلت اور اہل اللہ کے مقام کی معرفت
بندے کو اس بات کا پختہ علم ہو کہ اہل تہجد اللہ کے نزدیک کتنا بلند مقام رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں ایمانِ کامل کی گواہی دی ہے اور انہیں علم والوں کی صف میں کھڑا کیا ہے۔ قیام اللیل دخولِ جنت اور بلند درجات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
2۔ شیطان کے مکر و فریب سے آگاہی
بیداری میں سستی پیدا کرنا شیطان کا قدیم وار ہے۔ اس حوالے سے نبوی تنبیہات کو سامنے رکھنا ضروری ہے:
* شیطان کا پیشاب کرنا: سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا جو صبح تک سوتا رہا (اور فرض نماز کے لیے بھی نہ اٹھا) تو آپ ﷺ نے فرمایا:
* شیطان کی تین گرہیں: سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان سوتے وقت انسان کے سر کے پیچھے تین گرہیں لگاتا ہے اور ہر گرہ پر افسوں پھونکتا ہے کہ “سو جا ابھی رات بہت باقی ہے”۔
3۔ دنیا سے بے رغبتی اور موت کی یاد
خواہشات کی طوالت انسان کو سست کر دیتی ہے، جبکہ موت کی یاد عمل میں چستی پیدا کرتی ہے۔
* مسافر کی طرح زندگی: سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کرد کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا:
4۔ صحت اور فراغت کو غنیمت جاننا
نعمتوں کے چھن جانے سے پہلے ان کی قدر کرنا بیداری میں معاون ہوتا ہے۔
5۔ استقامت اور ترکِ قیام پر تنبیہ
قیام اللیل کو معمول بنا کر چھوڑ دینا اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔
6۔ بستر کی نرمی میں اعتدال
بہت زیادہ نرم اور پرتعیش بستر غفلت کی نیند کا باعث بنتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی ﷺ کے بستر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:
7۔ رزقِ حلال کا اہتمام
حرام لقمہ اعضاء کو عبادت کے لیے بوجھل کر دیتا ہے، جبکہ رزقِ حلال کی برکت سے بیداری آسان ہو جاتی ہے۔
8۔ عملی و ظاہری تدابیر
جلد سونا: عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد فضول بات چیت کرنے کو ناپسند کرنا تاکہ قیام کے لیے قوت حاصل رہے۔ (بخاری: 568)
قیلولہ: دن میں تھوڑی دیر آرام کرنا قیام اللیل میں ممد و معاون ہوتا ہے۔
کھانے میں اعتدال: رات کو بہت زیادہ کھانے سے پرہیز کرنا، کیونکہ بھرا ہوا پیٹ نیند کو گہرا اور بیداری کو مشکل بنا دیتا ہے۔
9۔ باطنی و روحانی اسباب (گناہوں سے پرہیز)
گناہ وہ زنجیریں ہیں جو انسان کو سجدہ ریزی سے روک دیتی ہیں۔ امام ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ “کسی ایک گناہ کی بناء پر میں پانچ ماہ قیام اللیل سے محروم رہا۔”
10۔ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اخلاص
قیام اللیل دراصل اللہ سے محبت کا امتحان ہے، کیونکہ محب اپنے محبوب سے مناجات کے وقت سوتا نہیں رہتا۔ اپنے دل کو مسلمانوں کے تئیں کینہ، بغض اور حسد سے پاک رکھنا اس عبادت کی روح ہے۔