Abdulghaffar Madni

حصہ دوم: قیام اللیل کا اجر و ثواب دلانے والے مخصوص اعمال | Hissa Dom: Qiyam-ul-Layl ka ajar-o-sawab dilane wale makhsoos a’maal

قیام اللیل: حصہ دوم

حصہ دوم: قیام اللیل کا اجر و ثواب دلانے والے مخصوص اعمال

اسلام کی وسعت اور اللہ کی رحمت کا یہ عالم ہے کہ اس نے بعض ایسے اعمال بھی بتائے ہیں جو بظاہر قیام اللیل نہیں لیکن ان کا اجر قیام اللیل کے برابر مقرر فرمایا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے عظیم بشارت ہے جو کسی عذر کی بنا پر رات کو بیدار نہیں ہو پاتے۔


1۔ اچھے اخلاق کی فضیلت

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ
“بلاشبہ مومن اپنے حسنِ اخلاق کے ذریعے (دن بھر) روزہ رکھنے والے اور (رات بھر) قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔” (سنن ابوداؤد: 4798)

2۔ عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنا

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ
“جس نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی گویا اس نے آدھی رات قیام کیا، اور جس نے صبح (فجر) کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی گویا اس نے پوری رات قیام (نماز) کیا۔” (صحیح مسلم: 656)

3۔ ظہر سے پہلے چار رکعت سنتوں کی اہمیت

ابو صالح سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ يَعْدِلْنَ بِصَلَاةِ السَّحَرِ
“ظہر سے پہلے کی چار رکعات سحر (تہجد) کی نماز کے برابر (اجر رکھتی) ہیں۔” (سلسلہ صحیحہ: 1431)

4۔ جمعہ کے دن کے مخصوص آداب

سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَسَّلَ، وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ… كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا
“جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، جلدی پہنچا، امام کے قریب بیٹھا اور غور سے خطبہ سنا… تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کے قیام (تہجد) کا ثواب ہے۔” (جامع ترمذی: 496)

5۔ تہجد کی نیت کر کے سو جانا

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى
“جو شخص اپنے بستر پر اس نیت سے آئے کہ وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر اس پر نیند غالب آ جائے یہاں تک کہ صبح ہو جائے، تو اس کے لیے وہ (اجر) لکھ دیا جاتا ہے جس کی اس نے نیت کی تھی۔” (سنن ابن ماجہ: 1344)

6۔ امام کے ساتھ مکمل تراویح ادا کرنا

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ
“آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ (امام) فارغ ہو جائے، تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔” (سنن نسائی: 1369)

7۔ رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ
“جس نے رات میں سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لیں، وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی۔” (مفسرین کے مطابق “کافی ہونے” سے مراد قیام اللیل کے اجر سے کفایت کرنا بھی ہے)۔ (صحیح بخاری: 5009)

8۔ سو (100) آیات کی تلاوت کرنا

سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ
“جس نے ایک رات میں سو آیات پڑھیں، اس کے لیے پوری رات کی عبادت کا اجر لکھ دیا جائے گا۔” (سنن دارمی: 3493)

9۔ بیواؤں اور مسکینوں کی خدمت و خبر گیری

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالمِسْكِينِ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ القَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ
“بیوہ اور مسکین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یا اس شخص کی طرح ہے جو رات بھر قیام کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے۔” (صحیح بخاری: 5353)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے